مندرجات کا رخ کریں

ڈوگر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

ڈوگر ایک مسلمان پنجابی قبیلہ ہے جو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں آباد ہے اور اس کا اصل تعلق ترکی، شمالی عراق اور کرد قبائل سے ملتا ہے[1]

تعارف اور نسلی ماخذ

[ترمیم]

راجپوت نژاد ڈوگروں کو عام طور پر دہلی کے نواحی علاقوں کے تبدیل شدہ** چوہان راجپوت** سمجھا جاتا ہے ایک اور روایت کے مطابق یہ راوی کے منح راجپوتوں کی ایک شاخ ہیں اور ان کا سلسلۂ نسب لونیہ (Lunia) سے ملتا ہے جو رانا بھٹہ کے 24 بیٹوں میں سے ایک تھا۔

وجہ تسمیہ

[ترمیم]

لفظ ڈوگر کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ سر ڈینزل ابٹسن کے مطابق **"ڈوگر"** یا **"دوگھڑ"** (Doghar) کا مطلب دو گھڑے ہے، جو غالباً کسی مخلوط نسل کی طرف اشارہ ہے ۔ ایک اور خیال یہ ہے کہ یہ لفظ "دوگھ گر" (Doghgar) یعنی **دودھ بیچنے والا** سے نکلا ہے، کیونکہ یہ اصل میں ایک گلہ بان قبیلہ تھا ۔

تاریخی ہجرت اور آباد کاری

[ترمیم]

یہ قبیلہ دہلی سے ہجرت کر کے پہلے **پاک پتن** کے نواح میں آباد ہوا اور پھر وہاں سے ستلج کے کناروں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہوا فیروز پور کے علاقے میں داخل ہوا ڈوگروں نے تقریباً **1760ء** میں فیروز پور میں قدم جمائے اور اگلے 40 سالوں میں اس علاقے کے ایک بڑے حصے پر قابض ہو گئے۔ [2]

سیاسی تاریخ

[ترمیم]

سکھ دور میں یہ قبیلہ کافی خود مختار رہا۔ **1808ء** میں انگریز سرکار نے **فیروز پور کی ڈوگر ریاست** کو تسلیم کیا اور اسے رنجیت سنگھ کے حملوں سے تحفظ فراہم کیا، تاہم 1835ء میں یہ ریاست ختم ہو گئی

جسمانی اور سماجی خصوصیات

[ترمیم]
  • خدوخال:** سر ہنری لارنس کے مطابق ڈوگر **دراز قد، وجیہہ اور تیکھے نقوش** والے ہوتے ہیں، جن کی ناکیں لمبی اور عقابی ہوتی ہیں ان کی شکل و صورت افغانوں سے مشابہت رکھتی ہے ۔
  • یہ ایک جنگجو اور حکمران قبیلہ ہے جس نے 19ویں صدی میں ریاست جموں و کشمیر پر حکومت کی اور ڈوگر راجپوتوں کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے** ۔[3]

پیشہ اور عادات

[ترمیم]

یہ قبیلہ قدیم زمانے سے **گلہ بانی** کا شوقین رہا ہے اور زراعت کو کمتر سمجھتا تھا ۔ تاریخی طور پر یہ مویشی پالنے اور مویشی چوری (کچھ اضلاع میں) کے لیے مشہور رہے ہیں، تاہم بعد کے ادوار میں یہ پر امن کاشتکار بن گئے ۔

مذہب و رسوم

[ترمیم]

ڈوگر تقریباً سبھی **مسلمان** ہیں، لیکن ان کی بہت سی رسوم اب بھی ہندووانہ ہیں، مثلاً شادی کے موقع پر ماں کی گوت کو خارج کرنا اور کچھ علاقوں میں عورتوں کا ہندو گھگرا پہننا ۔

قبائلی تقسیم اور شاخیں

[ترمیم]

فیروز پور کے تمام ڈوگروں کا جدِ امجد **بہلول** بتایا جاتا ہے، جس کی نسبت سے انھیں **مہو ڈوگر** (Mahu Dogars) کہا جاتا ہے بہلول کے تین بیٹے تھے: **بمبو** (فیروز پور کے ڈوگر)، **لنگر** (کھائی کے ڈوگر) اور **سمو** (قصور کے ڈوگر)۔

  • ڈوگروں کے بڑے قبیلوں (Clans) میں **متر، چین، تگرا، ماہو اور چوکرا** شامل ہیں ۔[4]۔
  1. ↑ [urduzaban](https://urduzaban.pk/word/%DA%88%D9%88%DA%AF%D8%B1[مردہ ربط] )
  2. ↑ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا* A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and NWFP*ای ڈی میکلیگن، ایچ اے روز؛ **مترجم:** یاسر جواد**ناشر:** بک ہوم، لاہور (2014ء)،صفحہ نمبر: 226، 227، 228
  3. ↑ A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West Frontier Province*, Vol. II (H.A. Rose) **ناشر:** سول اینڈ ملٹری گزٹ پریس، لاہور (1911ء)**صفحہ نمبر:** 244، 245، 246
  4. ↑ *The Tribes and Castes of the North-western Provinces and Oudh*, Vol. II (W. Crooke) **ناشر:** آفس آف دی سپرنٹنڈنٹ آف گورنمنٹ پرنٹنگ، انڈیا، کلکتہ (1896ء)**صفحہ نمبر:** 311، 312