اعوان

اعوان ایک قبیلہ ہے جو بنیادی طور پر پوٹھوہار کے شمالی، وسطی اور مغربی حصوں میں رہتا ہے،
شجرہ نسب عون قطب شاہ
[ترمیم]عون قطب شاہ بن یعلیٰ بن ابی یعلیٰ حمزہ بن طیار بن قاسم بن علی بن جعفر بن حمزہ بن حسن بن ح عبیداﷲ بن عباس بن امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ [1] </ref> [2]
تاریخ
[ترمیم]
اعوان حضرت علی کی اولاد سے ہیں ۔ پاکستان کے علاقے وادی سون، ونہار، کلرکہار اور تلہ گنگ کے اعوانوں کے شجرہ جات حضرت عون قطب شاہ سے ملتے ہیں جو حضرت علی کے صاحبزادے حضرت عباس علمدار کی اولاد سے تھے
اعوان آوان یا عوان کا فرق
[ترمیم]اعوان حضرت عون بن یعلی کی نسبت سے اعوان کہلاتے ہیں اور عربی اور فارسی میں لفظ عون کی جمع عوان ہے چنانچہ عربی و فارسی میں یہی لفظ لکھا جاتا ہے اردو میں الف کا اضافہ کیا گیا اور لفظ اوان سنسکرت زبان کا لفظ ہے معنی سب کا ایک ہی ہے یعنی مددگار یا معاون گویا اعوان اوان میں صرف دو زبانوں کے فرق کے علاوہ اور کچھ نہیں جن لوگوں نے اعوان لفظ کی کڑیاں عون بن علی سے یا سلطان محمود غزنوی سے جوڑنے کی کوشش کی وہ سراسرغلطی پر ہیں [4]۔
اعوان قبیلہ
[ترمیم]"اعوان" پاکستان کے شمالی اور وسطی حصوں، بالخصوص خطہ "پوٹھوہار" اور "کوہستانِ نمک" میں آباد ایک قدیم زمیندار اور عسکری پس منظر رکھنے والا قبیلہ ہے جو اپنی مخصوص ثقافتی اور نسبی شناخت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے [5]۔
نسب اور مورثِ اعلیٰ
[ترمیم]اعوانوں کی اپنی روایات اور قبائلی شجرہ ہائے نسب کے مطابق وہ "عربی نژاد" ہیں اور ان کا سلسلہِ نسب حضرت علی بن ابی طالب کی غیر فاطمی اولاد سے ملتا ہے ۔
حضرت عون المعروف قطب شاہ
[ترمیم]اس قبیلے کے متفقہ مورثِ اعلیٰ حضرت "عون" ہیں، جنھیں "عون قطب شاہ" یا "قطب شاہ بغدادی" کے لقب سے پکارا جاتا ہے [7]۔ تاریخی مآخذ کے مطابق وہ حضرت عباس بن علی (علمدار) کی نسل سے تھے اور تبلیغِ اسلام کی غرض سے برصغیر تشریف لائے [9]۔ ان کے بیٹوں "گوہر شاہ" (جو سکیّسر میں آباد ہوئے)، "کلان شاہ" (جو دھنکوٹ میں رہے)، "چوہان"، "محمد شاہ" اور دیگر نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں سکونت اختیار کی اور وہیں سے اعوانوں کی مختلف شاخیں پروان چڑھیں [10]۔
تاریخی نظریات
[ترمیم]اعوانوں کے اصل وطن اور نسل کے بارے میں مورخین میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں:
- "عربی نظریہ": قبیلے کے لوگ خود کو علوی اور عربی نژاد مانتے ہیں اور ان کے پاس قدیم قبائلی شجرے موجود ہیں جو ان کی نسبت حضرت عباس علمدار سے جوڑتے ہیں [12]۔
- "مقامی نظریہ": بعض برطانوی محققین نے انھیں "جٹ" یا مقامی نسل سے منسوب کرنے کی کوشش کی، لیکن "آئینِ اکبری" جیسے قدیم مآخذ میں بھی انھیں ایک الگ اور ممتاز قبیلے کے طور پر درج کیا گیا ہے [14]۔
زرعی قبیلہ
[ترمیم]پنجاب کا ایک بڑا زمیندار قبیلہ ہے جسے پنجاب ایلینیشن آف لینڈ ایکٹ 1900 کے تحت اضلاع جہلم، اٹک اور میانوالی میں ایک نوٹیفائیڈ "زرعی قبیلہ" تسلیم کیا گیا۔ ان مغربی اضلاع میں اعوان اکثریتی آبادی رکھتے تھے، جہاں کسانوں کی سود خوروں کے ہاتھوں معاشی تباہی کے پیشِ نظر یہ قانون نافذ کیا گیا۔ اس درجہ بندی کے باعث اعوان برادری کو زرعی اراضی کی خرید و فروخت کا مکمل قانونی حق حاصل رہا۔[15][16]
جغرافیائی پھیلاؤ اور اعوان کاری
[ترمیم]اعوان بنیادی طور پر پاکستان کے درج ذیل علاقوں میں کثرت سے آباد ہیں:
- "ضلع تلہ گنگ اور چکوال": تلہ گنگ کا تقریباً پورا علاقہ اعوانوں کی ملکیت رہا ہے، اسی لیے اسے "اعوان کاری" کہا جاتا ہے [17]۔
- "ضلع اٹک": یہاں اعوان آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہیں اور ضلع کے ہر تحصیل میں ان کی بڑی زمینداریاں موجود ہیں [19]۔
- "ضلع میانوالی اور خوشاب": کالاباغ اعوانوں کا ایک اہم تاریخی مرکز ہے اور وادیِ سون ان کا قدیم مسکن سمجھا جاتا ہے [20]۔
- "دیگر علاقے": اس کے علاوہ راولپنڈی، سیالکوٹ، گجرات اور کشمیر میں بھی اعوانوں کی بڑی تعداد آباد ہے [22]۔
قبائلی شاخیں اور سماجی ساخت
[ترمیم]اعوان قبیلہ متعدد ذیلی شاخوں میں تقسیم ہے جنھیں مقامی زبان میں "موہی" کہا جاتا ہے [23]۔
- "اہم شاخیں": ان میں "قطب شاہی"، "بُدھال"، "میال"، "ریحان"، "گلگان"، "سگھرال" اور "صدقال" نمایاں ہیں [25]۔
- "سماجی حیثیت": اعوانوں کو ایک جفاکش، بہادر اور غیرت مند قوم تصور کیا جاتا ہے [27]۔ وہ روایتی طور پر "سردار" اور "ملک" کے لقب استعمال کرتے ہیں [29]۔ سماجی طور پر وہ اپنی بیٹیوں کے رشتے عموماً اپنے ہی قبیلے یا سادات میں دیتے ہیں [31]۔
عسکری اور تعلیمی خدمات
[ترمیم]اعوان قبیلہ برصغیر کی عسکری تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے:
مشہور شخصیات
[ترمیم]اعوان قبیلے کی چند نمایاں شخصیات درج ذیل ہیں:
- "نواب ملک امیر محمد خان": سابق گورنر مغربی پاکستان اور کالاباغ کے نواب [36]۔
- "ملک محمد امین خان": شمس آباد (اٹک) کے معروف جاگیردار اور سیاسی رہنما [37]۔
- "سلطان العارفین سلطان باہو": مشہور صوفی بزرگ جن کا تعلق اعوان قبیلے کی "انوال" شاخ سے بتایا جاتا ہے [38]۔
- "ملک مظفر خان": تلہ گنگ کے معروف سیاسی اور قبائلی رہنما [40]۔
قابل ذکر لوگ
[ترمیم]عبد الستار علوی ماسٹر آف میگ شام میں اسرائیلی جہاز تباہ کرنے والے واحد شخص آپ جالندھر کی اعوان کاری سے تعلق رکھتے ہیں گاؤں سمی پور کلگان گوت سے تعلق رکھتے ہیں اور آپ کی ذیلی گوت کلی گھلی ہے ہجرت کے وقت کم سن تھے ۔


- نواب ملک امیر محمد خان – کالا باغ کے سابق نواب، اعوان قبیلے کے سربراہ اور 1960ء سے 1966ء [41] مغربی پاکستان کے گورنر ۔
- ائیر مارشل نور خان - پاک فضائیہ کے کمانڈر ان چیف، 1965-69ء، مغربی پاکستان کے گورنر، 1969-70ء اور پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہلال جرأت کا وصول کنندہ۔ [42]
- میر سلطان خان - ایک شطرنج کا ماہر جسے کچھ لوگوں کے نزدیک جدید دور کا سب سے بڑا فطری شطرنج کا کھلاڑی بھی مانا جاتا ہے۔
- احمد ندیم قاسمی – اردو شاعر، صحافی، ادبی نقاد، ڈراما نگار، مختصر کہانی کے مصنف، پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز، پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا سول اعزاز حاصل کیا ۔
- سلطان باہو - ایک صوفی صوفی، شاعر، عالم اور صوفیانہ روایت کے بانی جنہیں سروری قادری کہا جاتا ہے۔ [43]
- خادم حسین رضوی - ایک پاکستانی اسلامی اسکالر اور تحریک لبیک پاکستان کے بانی۔
- سعد حسین رضوی پاکستانی عالم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ اور سیاستدان
- امیر محمد اکرم اعوان - اسلامی اسکالر اور صوفیانہ روایت کے روحانی پیشوا جنہیں نقشبندیہ اویسیہ کہا جاتا ہے۔ [44]
- عبدالمنان وزیرآبادی – اسلامی اسکالر، فقیہ اور محدث ۔ [45]
- دلیپ کمار - ہندی سنیما کے ایک اداکار۔
- بابر اعوان - پاکستانی سیاست دان اور وکیل
- ہردیو باہری - ماہر لسانیات جنھوں نے آونکاری بولی پر دو جلدوں کا مقالہ لکھا
- عاصم ملک
مزید دیکھیے
[ترمیم]- پوٹھوہار سطح مرتفع کے قبائل اور قبیلے۔
- احمد گل خیل
- اعوان پٹی۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ شاہ دل اعوان (2016)۔ عُمدۃ الاعوان۔ اسلام آباد: افکارِ اعوان پاکستان۔ ص 68
- ↑ عمدۃالاعوان کا حوالہ عمدۃ الطالب، المعقبون،الشجرۃ الزکیۃ،تاریخ زاد الاعوان ، نسب الاعوان، مدرک الطالب،انوار شمسیہ،اور توضیح الانساب سے ماخوذ ہے
- ↑ شاہ دل اعوان 2016, p. 143
- ↑ [3]
- ↑ ملک شیر محمد خان (2009)۔ تحقیق الاعوان۔ لاہور: الفیصل ناشران و تاجران کتب۔ ص 23
- ↑ شاہ دل اعوان 2016, p. 64
- ↑ [6]
- ↑ ملک شیر محمد خان 2009, p. 116
- ↑ [8]
- ↑ ملک شیر محمد خان (1999)۔ تاریخ الاعوان۔ لاہور: الفیصل ناشران و تاجران کتب۔ ص 37
- ↑ شاہ دل اعوان 2016, p. 31
- ↑ [11]
- 1 2 پنجاب حکومت 1904, p. 101
- ↑ [13]
- ↑ پنجاب حکومت (1930)۔ Gazetteer of the Attock District 1930۔ لاہور: پنجاب حکومت۔ ج 1۔ ص 116
- ↑ پنجاب حکومت (1915)۔ Gazetteer of the Mianwali District 1915۔ لاہور: پنجاب حکومت۔ ج 1۔ ص 580
- ↑ پنجاب حکومت (1884)۔ Gazetteer of the Jhelam district 1883-84۔ لاہور: پنجاب حکومت۔ ص 77
- ↑ پنجاب حکومت 1930, p. 80
- ↑ [18]
- ↑ پنجاب حکومت (1915)۔ GAZETTEER OF THE MIANWALI DISTRICT, 1915۔ پنجاب حکومت۔ ص 62
- ↑ شاہ دل اعوان 2016, p. 126
- ↑ [21]
- ↑ [13]
- ↑ ملک شیر محمد خان 1999, p. 138-140
- ↑ [24]
- 1 2 پنجاب حکومت 1930, p. 81
- ↑ [26]
- ↑ پنجاب حکومت 1915, p. 70
- ↑ [28]
- ↑ پنجاب حکومت 1930, p. 118
- ↑ [30]
- ↑ ایم ایل ڈارلنگ (1934)۔ Wisdom And Waste In The Punjab Village۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس۔ ص 51
- 1 2 شاہ دل اعوان 2016, p. 83
- ↑ [33]
- ↑ پنجاب حکومت 1915, p. 68
- ↑ [35]
- ↑ [26]
- ↑ [33]
- ↑ پنجاب حکومت 1930, p. 87
- ↑ [39]
- ↑ Jahan Dad Khan (2001)۔ Pakistan Leadership Challenges۔ Oxford University Press۔ ص 72۔ ISBN:0195795873
- ↑ Roedad Khan (1999)۔ The American Papers: Secret and Confidential India-Pakistan-Bangladesh Documents, 1965-1973۔ Oxford University Press۔ ص 265۔ ISBN:0195791908
- ↑ Jürgen Wasim Frembgen (2006)۔ The Friends of God: Sufi Saints in Islam, Popular Poster Art from Pakistan۔ Oxford University Press۔ ص 103۔ ISBN:0195470060۔
... Sultan Bahu (d. 1691) whose real name was Sultan Muhammad. Born into an Awan Family in Shorkot (District Jhang), ...
- ↑ "Hazrat Ameer Muhammad Akram (RA)"۔ Silsala Naqshbandia Owaisia۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-03
- ↑ Ustad-e-Punjab (teacher of Punjab), in اردو, by Maulana Majeed Sohadravi, Darussalam Pakistan/Muslim Publication, لاہور. page 41