مندرجات کا رخ کریں

حجام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

حجام (جسے "نائی"، "سلمانی" یا "استا" بھی کہا جاتا ہے) پاکستان اور بھارت کا ایک قدیم اور اہم پیشہ ورانہ قبیلہ اور ذات ہے جو بنیادی طور پر بال تراشنے، جراحی اور روایتی پیام رسانی کی خدمات انجام دیتا ہے۔[1][2]

وجہ تسمیہ

[ترمیم]

اصطلاح "حجام" عربی لفظ "حجم" یا "حجامت" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی "پچھنے لگانا" یا "خون نکال کر علاج کرنا" کے ہیں۔[3] سنسکرت اور ہندی زبان میں اس ذات کے لیے "نائی" کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جو قدیم سنسکرت لفظ "ناپت" سے نکلا ہے جس کا مطلب "نہلانے والا" ہے۔[2][4] مسلمان حجاموں میں احتراماً "سلمانی" کا لقب استعمال کیا جاتا ہے، جو حضرت سلمان فارسی کی نسبت سے منسوب ہے۔[3][5] اس کے علاوہ مسلمان نائیوں کو "خلیفہ" اور "استا" کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے، جبکہ ضلع گورگاؤں کے مسلمان نائی "استان" کہلاتے ہیں۔[3][6] مغربی پنجاب میں ہندو نائیوں کو "جاجک" اور پہاڑی خطوں میں "کنگھیرا" کہا جاتا ہے، جبکہ ہندو نائی خود کو "سین بھگتی" بھی کہتے ہیں۔[7][6]

تاریخی اور مذہبی پس منظر

[ترمیم]

ہندو شاستروں کے مطابق نائی ذات کی اصل "کشتریہ" والد اور "شودر" ماں کے مخلوط نسلی رشتے سے بتائی جاتی ہے۔[2] ایک روایت کے مطابق بھگوان مہادیو نے دیوی پاروتی کے ناخن تراشنے کے لیے سب سے پہلے نائی کو پیدا کیا تھا۔[2] ہندو نائی اپنے قبیلے کا روحانی پیشوا "سین بھگت" کو مانتے ہیں، جو ایک راجا کا مذہبی نائی تھا جس کی جگہ بھگوان نے خود راجا کی خدمت انجام دی۔[2][7] مسلمان حجام اپنے پیشہ ورانہ آداب کے لیے روایتی تحریر "کسبت نامہ" کے احکامات پر یقین رکھتے ہیں، جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہدایات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور استرا یا قیچی استعمال کرتے وقت مخصوص کلمات پڑھے جاتے ہیں۔[5]

معاشرتی کردار

[ترمیم]

دیہی اور شہری معاشرے میں حجام کی حیثیت صرف بال کاٹنے تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک اہم سماجی کارکن تھا۔[1] دیہات میں وہ معزز مہمانوں کی دیکھ بھال اور حقہ تیار کرنے کی خدمات بھی انجام دیتا تھا۔[1] شادی بیاہ اور دیگر مواقع پر نائی اور اس کی اہلیہ ("نائن") خاندانی پیام بر کے طور پر رسمی دعوت نامے لے کر جاتے تھے۔[1][8] بچے کی ولادت کے بعد سر منڈوانے اور ختنے کی رسم ادا کرنا بھی حجام کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔[7][8] طبی سہولیات کی عدم موجودگی کے ادوار میں حجام جراحی، فصد کھولنے اور زخموں کی مرہم پٹی کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔[8][5] ان کی فطانت کی وجہ سے یہ مقولہ مشہور تھا: "جانوروں میں گیدڑ، پرندوں میں کوا اور انسانوں میں نائی سب سے زیادہ ہوشیار ہوتا ہے۔"[6]

قبیلے کی شاخیں

[ترمیم]

حجام یا نائی برادری مختلف جغرافیائی اور خاندانی ذیلی شاخوں پر مشتمل ہے۔[3][2] مسلمان حجاموں میں دو اہم گروہ پائے جاتے ہیں: وہ جو غیر ملکی فاتحین کے ساتھ آئے جیسے "شیخ" یا "ترکمان" اور وہ مقامی خاندان جنھوں نے اسلام قبول کیا۔[3] مقامی مسلمان نائیوں میں "بھٹی"، "چوہان"، "نربان"، "تلوار" (تومر)، "غوریہ" اور "کھرل" جیسی شاخیں شامل ہیں۔[3]

ہندو نائیوں میں اہم ذیلی گروہ یہ ہیں: "بن بھیرو" (جھگڑالو)، "گولا" (اجمیر سے منسوب)، "کنوجیا" (قنوج سے)، "مٹھوریا" (متھرا سے)، "سری باستب" (شراوستی سے) اور "بیاہوٹ" (جو بیوہ کی دوسری شادی سے پرہیز کرتے ہیں)۔[2][3] پہاڑی خطوں میں "کشیپ"، "بھاردواج" اور "چانوال" جیسے گوتر بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔[8]

جغرافیائی پھیلاؤ

[ترمیم]

حجام قبیلہ پورے جنوبی ایشیا میں آباد ہے۔[6] پاکستان میں یہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے تمام اضلاع میں پایا جاتا ہے۔[6][7] بھارت میں ان کی بڑی آبادی ہریانہ، اتر پردیش، راجستھان اور بہار میں مقیم ہے، جہاں یہ برادری زراعت اور خدمات کے شعبوں سے وابستہ ہے۔[8][4]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 ڈینزل ابٹسن (1916)۔ پنجاب کاسٹس۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 1۔ ص 230
  2. 1 2 3 4 5 6 7 ولیم کروک (1896)۔ دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی نارتھ ویسٹرن پروونسز اینڈ اودھ۔ کلکتہ: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 4۔ ص 40
  3. 1 2 3 4 5 6 7 ایچ اے روز (1911)۔ اے گلوسری آف دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی پنجاب اینڈ نارتھ ویسٹ فرنٹیر پروونس۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 3۔ ص 102
  4. 1 2 آر وی رسل (1916)۔ دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی سینٹرل پروونسز آف انڈیا۔ لندن: میکملن اینڈ کمپنی۔ ج 4۔ ص 254
  5. 1 2 3 یاسر جواد (2004)۔ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا۔ لاہور: بک ہوم۔ ج 1۔ ص 433
  6. 1 2 3 4 5 ڈینزل ابٹسن (1916)۔ پنجاب کاسٹس۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 1۔ ص 231
  7. 1 2 3 4 ایچ اے روز (1911)۔ اے گلوسری آف دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی پنجاب اینڈ نارتھ ویسٹ فرنٹیر پروونس۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 3۔ ص 101
  8. 1 2 3 4 5 ولیم کروک (1896)۔ دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی نارتھ ویسٹرن پروونسز اینڈ اودھ۔ کلکتہ: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 4۔ ص 41