مندرجات کا رخ کریں

سومرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
سومرو قوم
گنجان آبادی والے علاقے
زبانیں
سندھی، سرائیکی، پنجابی، گجراتی، کچھی
مذہب
اسلام
متعلقہ نسلی گروہ
دیگر سندھی قبائل

سومرو سندھ اور پنجاب کا ایک قدیم اور تاریخی قبیلہ ہے

تعارف

[ترمیم]

سومرو (یا سومرہ) جو نسلی طور پر راجپوت ماخذ سے تعلق رکھتا ہے ۔ یہ قبیلہ قرون وسطیٰ میں سندھ کا حکمران رہا ہے، جہاں ان کا اقتدار 1050ء سے 1340ء تک قائم رہا، جبکہ ان کی ایک شاخ نے 1445ء سے 1526ء تک ملتان پر بھی حکومت کی ہے ۔ لسانی طور پر سندھ میں اسے "سومرو" اور پنجاب و ملحقہ علاقوں میں "سومرہ" یا "سومرا" پکارا جاتا ہے۔

نسب اور مآخذ

[ترمیم]

سومرو قبیلے کے نسب کے بارے میں دو اہم نظریات پائے جاتے ہیں:

  • راجپوت ماخذ: برطانوی مورخ جیمز ٹاڈ کے مطابق سومرو دراصل پنوار راجپوتوں کے "سوڈا" (Soda) قبیلے کی ایک شاخ ہے جو قدیم زمانے میں راجپوتانہ کے ریگستانوں پر قابض تھے ۔ ٹاڈ نے ان کی شناخت سکندر اعظم کے مورخین کے بیان کردہ "سوگڈی" (Sogdi) لوگوں سے کی ہے ۔
  • عربی ماخذ: ایک دوسری تاریخی روایت کے مطابق سومرو ایک شخص کا نام تھا جو تمیم انصاری کی نسل سے تھا اور اس خاندان نے 583ھ میں سندھ میں اقتدار حاصل کیا۔ بعض مقامی تذکروں میں انھیں حضرت نوحؑ کے پوتے "سندھ" کی اولاد بھی بتایا گیا ہے۔

تاریخی پس منظر

[ترمیم]

سومرو خاندان کی تاریخ اقتدار اور قبائلی جنگوں سے عبارت ہے:

  • سندھ کی حکمرانی: سومرو سرداروں نے 11ویں صدی کے وسط میں سندھ کے مقامی اقتدار پر قبضہ کیا اور تقریباً تین صدیوں تک حکومت کی، یہاں تک کہ انھیں ایک دوسرے راجپوت قبیلے "سما" (Samma) نے شکست دے کر اقتدار سے بے دخل کر دیا ۔
  • ملتان کی سلطنت: 1445ء میں سومرو خاندان نے ملتان میں اپنی سلطنت قائم کی جو 1526ء تک برقرار رہی۔
  • دودو چنیسر کی جنگ: سومرہ دور کی سب سے مشہور عوامی داستان "دودو اور چنیسر" کی باہمی رقابت اور جنگ ہے، جس کے قصے آج بھی سندھ کی محفلوں میں گائے جاتے ہیں۔
  • قدیم بستیوں کی تعمیر: اس قبیلے نے دریائے سندھ کے قدیم راستے کے ساتھ پتھروں اور پکی اینٹوں سے بستیوں کا ایک سلسلہ تعمیر کیا تھا، جن کے کھنڈر آج بھی "سومرنجوں ماڑیوں" (سومروں کے منزلہ مکانات) کے نام سے مشہور ہیں۔

قبائلی پھیلاؤ اور شاخیں

[ترمیم]

تاریخی انقلابات کے بعد یہ قبیلہ سندھ سے پنجاب کے وسطی علاقوں کی طرف پھیل گیا:

  • پنجاب: یہ لوگ دریائے ستلج اور چناب کے کناروں پر آباد ہوئے اور خاص طور پر لیہ کے تھل والے علاقے میں ان کی بڑی تعداد موجود ہے ۔
  • ریاست بہاولپور: یہاں سومرہ زیادہ تر مزارعین کے طور پر آباد ہیں، تاہم ان کے کچھ گروہ دستکاری اور مختلف پیشوں مثلاً لوہار، ترکھان، ملاح، رنگریز اور حجام سے بھی وابستہ ہیں ۔
  • ذیلی شاخیں: بہاولپور میں ان کی اہم ذیلی شاخوں (Septs) میں بھٹڑ، ککک اور کھتری شامل ہیں۔

معاشرت اور روایات

[ترمیم]
  • منفرد ثقافتی روایت: سومرو قبیلے کی شادی شدہ خواتین میں ایک منفرد رواج یہ ہے کہ وہ ناک میں نتھلی (Nose-ring) نہیں پہنتیں روایات کے مطابق سموں کے ہاتھوں شکست کے وقت قبیلے کے مردوں کا اس قدر قتل عام ہوا کہ تقریباً تمام خواتین بیوہ ہو گئی تھیں، جس کے سوگ میں نتھلی نہ پہننے کی یہ رسم آج بھی برقرار ہے ۔
  • سماجی مقام: اگرچہ یہ قبیلہ نسلی طور پر راجپوت ہے، لیکن پنجاب کے کئی علاقوں میں اب یہ "جٹ" کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ سندھ میں سومرو کہلانے والے افراد کی اکثریت اب زراعت پیشہ ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1881 Punjab Census, Ethnic Extract Outline.*
  2. A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West Frontier Province (Vol. 2 & 3).*
  3. The Musalman Races Found in Sind, Baluchistan and Afghanistan.*
  4. Zaato ka Encyclopedia (ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا).*
  5. Panjab Castes (by Sir Denzil Ibbetson).*