رنگریز
رنگریز (یا "مسلم رنگریز") پاکستان اور بھارت کی ایک قدیم و نامور پیشہ ورانہ برادری ہے، جو بنیادی طور پر پارچہ بافی اور سوتی و ریشمی کپڑوں کو مختلف رنگوں میں رنگنے کے تاریخی فن سے وابستہ ہے۔[1][2]
وجہ تسمیہ
[ترمیم]لفظ "رنگریز" فارسی زبان کے دو الفاظ "رنگ" (لون) اور "ریز" (مصدر "ریختن"، یعنی ڈالنا) کا مرکب ہے، جس کے معنی "کپڑا رنگنے والا" کے ہیں۔[1][2] پنجاب اور سرحد کے خطوں میں اس برادری کو "لیلاری"، "نیلاری"، "نیل گر"، "لاری" اور "پتینگ" بھی کہا جاتا ہے۔[3][4] سندھ میں اس برادری کے لیے "کھتری"، "نیروٹی" (نیل سے رنگنے والا) اور "خنھباتی" (مخصوص سرخ رنگ سے رنگنے والا) کی اصطلاحات بھی استعمال ہوتی رہی ہیں۔[5] پشاور کے خطے میں رنگریز اور دھوبی طبقے کو ایک دوسرے کا ہم معنی تصور کیا جاتا رہا، جبکہ شمالی اور پہاڑی علاقوں میں "رنگریٹا" اور "چھینبا" کا لفظ بھی مترادف کے طور پر مستعمل رہا۔[6]
تاریخی پس منظر
[ترمیم]تاریخی طور پر مسلم رنگریز ایک پیشہ ورانہ حرفتی برادری کا حصہ رہے ہیں جو زیادہ تر شہری اور تجارتی مراکز میں آباد رہی۔[6][7] ہندوؤں کے روایتی سماجی نظام میں نیل کے استعمال سے متعلق مذہبی تحفظات کی وجہ سے کپڑے کی رنگائی کا بڑا شعبہ مسلمانوں کے پاس رہا۔[6][8] مرکزی صوبہ جات میں ہندو رنگ سازوں کو "رنگاری" یا "چھپا" کہا جاتا تھا، جبکہ مسلمانوں کی الگ برادری کو "رنگریز" کے نام سے ممتاز کیا گیا۔[2][9] اس برادری میں مقامی نومسلم خاندانوں کے ساتھ ساتھ عسکری و تجارتی قافلوں کے ہمراہ آنے والے کاریگر بھی شامل ہوئے جنھوں نے یکساں پیشہ ورانہ قواعد اختیار کیے۔[1][2]
فنِ رنگسازی
[ترمیم]رنگریز برادری کا بنیادی فن کپڑوں پر قدرتی نباتاتی اور معدنی اجزا کے ذریعے پائیدار رنگ چڑھانا تھا۔[8] رنگسازی سے وابستہ طبقات کے فرائض میں واضح فرق تھا: "لیلاری" یا "نیل گر" صرف نیلے رنگ (نیل) کا کام کرتے، "چھپا" کپڑے پر چھپائی اور سرخ رنگ (مجیٹھ) میں کپڑا رنگتا، جبکہ "رنگریز" نیل اور مجیٹھ کے علاوہ دیگر تمام قدرتی رنگوں کی تیاری کا ماہر ہوتا تھا۔[6]
رنگریز سرخ رنگ کے لیے "کسم" (کسمی پھول) استعمال کرتے تھے، جو ان کی بنیادی فنی شناخت سمجھا جاتا تھا۔[8] زرد رنگ کے لیے ہلدی، سبز کے لیے نیل اور ہلدی کا آمیزہ، جامنی کے لیے نیل اور کسم اور بادامی کے لیے کچور اور ناگرموتھا کا مرکب استعمال کیا جاتا تھا۔[8] مسلمان اور فقراء خاص طور پر سبز اور جامنی کپڑے پسند کرتے تھے، جبکہ ہندو برادری میں شادی بیاہ کے موقعوں پر زرد اور سرخ رنگ کے کپڑے رنگوائے جاتے تھے۔[8] بعد کے ادوار میں غیر ملکی کیمیائی رنگوں کی آمد سے ان کی روایتی دستی رنگسازی کی صنعت پر گہرا اثر پڑا۔[8][10]
قبائلی ساخت
[ترمیم]رنگریز برادری مذہبی اعتبار سے مکمل طور پر مسلمان (اہل سنت) ہے، تاہم معاشرتی طور پر ایک منظم حرفتی برادری ہے جو اپنے ہی خاندانوں میں شادی بیاہ کے امور طے کرتی ہے۔[6][2] شمالی ہند اور اتر پردیش میں مسلم رنگریز برادری کی 81 ذیلی شاخیں درج کی گئی ہیں، جن میں "دیسی"، "دیسوالا"، "گور"، "ملتانی" اور "مارواڑی رنگریز" شامل ہیں۔[1] ان کی خاندانی شاخوں میں راجپوت اور پٹھان القاب سے منسوب نام بھی ملتے ہیں، جیسے "بھٹ"، "چوہان"، "کھتری"، "قریشی"، "پٹھان"، "شیخ" اور "صدیقی"۔[1] مرکزی صوبہ جات میں یہ برادری "کھیڑیا والے" اور مقامی رنگریزوں کے دو بڑے گروہوں میں تقسیم رہی ہے۔[2]
مذہبی عقائد
[ترمیم]مسلم رنگریز برادری بزرگوں اور صوفیا سے گہری عقیدت رکھتی ہے۔[11] لاہور میں رنگریز برادری حضرت "علی رنگریز" اور ان کے بھائیوں کے مزار سے عقیدت رکھتی ہے۔[11] ضلع لیہ اور پنجاب کے دیگر حصوں میں رنگریز برادری حضرت علی رنگریز کو اپنا پیشہ ورانہ روحانی پیشوا اور حضرت لقمان علیہ السلام کا شاگرد مانتی ہے، جن کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے کپڑا رنگنے کے فن میں جدت پیدا کی تھی۔[12][13] اس برادری کے ہنرمند اپنے کام کے آغاز میں تبرک کے طور پر یہ مصرع پڑھتے ہیں: "پیر استاد لقمان حکیم، حکمت دا بادشاہ، علی رنگریز، چڑھی رہے دیگ۔"[12]
جغرافیائی پھیلاؤ
[ترمیم]رنگریز قوم جنوبی ایشیا کے متعدد خطوں میں پھیلی ہوئی ہے۔[6][1] پاکستان میں یہ برادری پنجاب کے اضلاع لاہور، امرتسر، ملتان، سیالکوٹ، گجرات، شاہ پور، لیہ اور خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور اور ہزارہ کے ساتھ ساتھ سندھ کے تجارتی شہروں میں پائی جاتی ہے۔[6][12][5] بھارت میں ان کی آبادی اتر پردیش، راجستھان، ہماچل پردیش اور مرکزی صوبہ جات میں مقیم رہی ہے۔[1][14][2]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 6 7 ولیم کروک (1896)۔ دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی نارتھ ویسٹرن پروونسز اینڈ اودھ۔ کلکتہ: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 4۔ ص 273
- 1 2 3 4 5 6 7 آر وی رسل (1916)۔ دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی سینٹرل پروونسز آف انڈیا۔ لندن: میکملن اینڈ کمپنی۔ ج 4۔ ص 477
- ↑ ایچ اے روز (1911)۔ اے گلوسری آف دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی پنجاب اینڈ نارتھ ویسٹ فرنٹیر پروونس۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 3۔ ص 34
- ↑ یاسر جواد (2004)۔ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا۔ لاہور: بک ہوم۔ ج 1۔ ص 245
- 1 2 شیخ صادق علی شیر علی انصاری (1901)۔ دی مسلمان ریسز فاؤنڈ ان سندھ، بلوچستان اینڈ افغانستان۔ کراچی: کمشنرز پریس۔ ج 1۔ ص 99
- 1 2 3 4 5 6 7 ڈینزل ابٹسن (1916)۔ پنجاب کاسٹس۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 1۔ ص 331
- ↑ آر وی رسل (1916)۔ دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی سینٹرل پروونسز آف انڈیا۔ لندن: میکملن اینڈ کمپنی۔ ج 1۔ ص 75
- 1 2 3 4 5 6 آر وی رسل (1916)۔ دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی سینٹرل پروونسز آف انڈیا۔ لندن: میکملن اینڈ کمپنی۔ ج 4۔ ص 478
- ↑ آر وی رسل (1916)۔ دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی سینٹرل پروونسز آف انڈیا۔ لندن: میکملن اینڈ کمپنی۔ ج 2۔ ص 427
- ↑ محکمہ پولیٹیکل ایجنسی ژوب (1907)۔ ژوب ڈسٹرکٹ گزیٹیئر۔ کلکتہ: سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ پرنٹنگ۔ ج 1۔ ص 192
- 1 2 ایچ اے روز (1911)۔ اے گلوسری آف دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی پنجاب اینڈ نارتھ ویسٹ فرنٹیر پروونس۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 1۔ ص 575
- 1 2 3 ایچ اے روز (1911)۔ اے گلوسری آف دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی پنجاب اینڈ نارتھ ویسٹ فرنٹیر پروونس۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پریس۔ ج 2۔ ص 167
- ↑ یاسر جواد (2004)۔ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا۔ لاہور: بک ہوم۔ ج 1۔ ص 199
- ↑ ایم اے شرنگ (1881)۔ ہندو ٹرائبز اینڈ کاسٹس۔ کلکتہ: ٹھاکر اسپنک اینڈ کمپنی۔ ج 3۔ ص 57